Posts

Showing posts from October, 2025

*مریم نواز کا اتحاد بین المسلمین کمیٹی سے خطاب*

Image
*علماء کا کردار* مریم نواز نے اتحاد بین المسلمین کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے علماء کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء معاشرے کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ریاست اور عوام دونوں انہیں اپنا رہنما مانتے ہیں۔ *سیاست اور ترقی* مریم نواز نے کہا کہ سیاست ہر ایک کا حق ہے، لیکن ملک کی ترقی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کچھ سیاسی جماعتیں ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں کے لیے بنائی گئیں۔ *تشدد کی مذمت* مریم نواز نے تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمی ایک بنیادی حق ہے، لیکن اس میں ہتھیار اٹھانا یا جانوں کو خطرے میں ڈالنا شامل نہیں ہونا چاہیے۔ *حکومت کی ترجیحات* مریم نواز نے کہا کہ عوامی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کا مقصد عوام کو گھروں سے باہر نکلنے میں آرام اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کو بلاک کرنا اور املاک کو نقصان پہنچانا سیاست کے نام پر جائز نہیں ہے۔

پاکستان اور مصر کا بڑھتا تعاون خطے میں استحکام کی نئی جہت

Image
پاکستان اور مصر کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات میں ایک مثبت اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔ قاہرہ میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ملاقات نے اس امر کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متوازن کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات کے اہم امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے اور عوامی سطح پر تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا۔ پاکستان اور مصر کے تعلقات کی جڑیں 1948 میں سفارتی روابط کے قیام تک جاتی ہیں، جب مصر مشرقِ وسطیٰ کے ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے مذہبی، ثقافتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔ موجودہ ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں امن و ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ سیاسی اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے۔ غزہ کے مسئلے پر پاکستان اور مصر کا یکساں مؤقف اس بڑھتے ہوئے تعاون کا ایک اور ثبوت ہے۔ دونوں...

پی ٹی آئی کا عوامی رابطہ مہم کا آغاز: سیاسی حرکیات میں نیا موڑ یا پرانا تسلسل؟

Image
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نومبر میں کراچی سے ایک بڑے عوامی جلسے کے ذریعے ملک گیر عوامی رابطہ مہم کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے مطابق، یہ مہم ملک کے مختلف شہروں میں جلسوں اور اجتماعات کے ذریعے عوام کو متحرک کرنے اور چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کا ایک منظم سلسلہ ہوگی۔ ان کے مطابق، پارٹی اس وقت آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے لیے متحد ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ثابت ہو رہے ہیں اور جلد ہی وہ ختم ہو جائیں گے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاست مسلسل عدم استحکام اور تقسیم کا شکار ہے۔ عمران خان کی قید اور ان کے خلاف مقدمات نے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے یہ عوامی مہم نہ صرف سیاسی قوت کے مظاہرے کا موقع ہوگی بلکہ اس سے عوامی تاثر بحال کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ناقدین کے نزدیک جلسوں اور بیانات سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بات چیت اور جمہوری عمل کے ذریعے بحران کے حل کی جانب بڑھیں۔ کر...

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعاون میں وسعت: پائیدار شراکت داری کی نئی جہت

Image
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کاروبلس کی ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں جی ایس پی پلس (GSP+) فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، جس کے ذریعے پاکستان کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے۔ دونوں فریقین نے انسانی حقوق، مزدوروں کے معیار، اور اچھی حکمرانی جیسے اہم پہلوؤں کو دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ وزیرِ تجارت جام کمال خان نے یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت پاکستان کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔ ان کے مطابق، اس پروگرام نے پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2014 میں اسکیم میں شمولیت کے بعد سے پاکستان کی برآمدات دوگنی ہو چکی ہیں، جو 2023 میں 8 ارب یورو تک پہنچ گئیں، جن میں سے جرمنی کا حصہ 2.4 ارب یورو رہا۔ تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید وسعت کے امکانات روشن ہیں، تاہم اس کے لیے پائیدار اصلا...

پاکستان کی معاشی اصلاحات اور عالمی شراکت داری واشنگٹن میں مالیاتی روابط کا نیا باب.

Image
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کا واشنگٹن ڈی سی کا حالیہ دورہ پاکستان کی معاشی اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی اور عالمی اعتماد کی بحالی کے تناظر میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں، پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی معیشت میں استحکام، محصولات میں بہتری، اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ ان کی گفتگوؤں کا محور بین الاقوامی شراکت داری کو وسعت دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا، جس سے پاکستان کی اقتصادی ساکھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے ریفارم ایجنڈے کو پیش کرتے ہوئے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، اور صنعتی و زرعی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔ چین، جاپان اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتوں میں معدنیات، آئی ٹی، اور مالیاتی شعبے میں تعاون کے نئے امکانات زیرِ بحث آئے۔ ان روابط نے پاکستان کے لیے کثیرالجہتی سرمایہ کاری ...

"چین-امریکہ رقابت اور پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی توازن کی راہ میں چیلنجز اور امکانات"

Image
اکیسویں صدی کے بین الاقوامی نظام کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت ہے۔ تجارتی تنازعات، تکنیکی برتری، فوجی جدیدیت، اور بحرالکاہل میں سیاسی اتحادوں کی تشکیل نے اس مسابقت کو کثیرالجہتی بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان، جو وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، ایک نہایت نازک جغرافیائی اور سفارتی مقام رکھتا ہے۔ اسلام آباد کو اس نئی عالمی صف بندی میں اپنے معاشی مفادات، سفارتی توازن، اور اسٹریٹجک اہداف کو بیک وقت برقرار رکھنا پڑ رہا ہے — جو کہ کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے حالیہ برسوں میں ایک منفرد توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین کے ساتھ اس کے تعلقات "ہمہ موسمی شراکت داری" کی بنیاد پر قائم ہیں، خاص طور پر سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کے ذریعے بیجنگ کی سرمایہ کاری نے پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونکی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اب بھی پاکستان کے لیے انسدادِ دہشت گردی، افغانستان میں استحکام، اور مالیاتی تعاون کے حوالے سے ایک اہم شراکت دار ہے۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھت...

"ڈیجیٹل معیشت کی سمت GITEX Global 2025 میں پاکستان کا بڑھتا ہوا اعتماد"

Image
GITEX Global 2025 میں پاکستان کے قومی پویلین کا افتتاح اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ملک اب عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا واضح مقام بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق، “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” کے وژن کے تحت حکومت کا مقصد نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، اختراع اور ڈیجیٹل کاروبار کے عالمی مواقع سے جوڑنا ہے۔ دبئی جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستانی اسٹارٹ اپس اور ٹیک کمپنیوں کی شرکت اس سمت میں ایک حوصلہ افزا قدم ہے۔ GITEX میں پاکستان کی موجودگی محض نمائشی نہیں بلکہ ایک مربوط اسٹریٹجی کا حصہ ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اور ملکی برآمدات کو وسعت دینا ہے۔ IT برآمدات کے 3.76 ارب ڈالر تک پہنچنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کمپنیاں عالمی سطح پر اپنی موجودگی منوا رہی ہیں۔ Ignite، PSEB، اور NITB جیسے اداروں کی شراکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا ٹیک سیکٹر اب سرکاری سرپرستی اور نجی تخلیقی صلاحیتوں کے امتزاج سے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی تسلسل، ڈیجیٹل انفر...

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر ریاستی سلامتی کے چیلنجز اور عوامی صبر کا امتحان.

Image
خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں ہونے والے دہشت گرد حملے، خصوصاً پولیس ٹریننگ اسکول پر خودکش بم دھماکہ اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، ایک بار پھر ملک کی داخلی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات کو اجاگر کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں بیس سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور تین شہریوں کی جانیں گئیں، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ ہفتے کے روز شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جہاں غم و غصے کے ساتھ ساتھ قوم کی طرف سے قربانیاں دینے والے اہلکاروں کے لیے احترام کے جذبات نمایاں تھے۔ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس گروہ کی کارروائیاں 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغان سرزمین کو اس کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ کابل حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ یہ صورتحال ایک پیچیدہ سیکیورٹی مسئلہ بن چکی ہے، جہاں سرحد کے دونوں اطراف سیاسی اعتماد کی کمی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی دفاعی حکام کے مطابق، 2021 کے بعد سے ...

"پاکستان–چین تجارتی تعلقات میں نئی جہت: چھ سو سے زائد پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن ایک سنگ میل"

Image
چین میں چھ سو سے زائد پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن پاکستان کی برآمدی بنیاد کے استحکام کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ زراعت سے لے کر سمندری خوراک اور صنعتی مصنوعات تک، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان کمپنیوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کاروباری طبقہ اب عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ آم، کینو، چاول، تل، اور چیری جیسے زرعی اجناس کے علاوہ نئے برآمدی زمرے — مثلاً پیاز، دودھ کی مصنوعات اور دیگر زرعی اشیاء — زیرِ غور ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کی معیشت کے تنوع اور درآمدی انحصار میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت بلاشبہ چین کے ساتھ اعتماد اور باہمی اقتصادی شراکت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان کی تجارتی مشن برائے چین نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس نے نہ صرف پاکستانی کمپنیوں کو چینی اداروں کے ساتھ جوڑا بلکہ انہیں جدید ای کامرس پلیٹ فارمز جیسے Douyin اور JD.com پر متعارف کروا کر عالمی خریداروں تک براہِ راست رسائی دی۔ یہ شمولیت پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی میں ڈیجیٹل تجارت کے بڑھتے ہوئے کردار کو ...

قومی اتحاد اور سلامتی: خواجہ آصف کے پیغام میں پاکستان کے عزم کی جھلک"

Image
قومی اسمبلی میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی تقریر پاکستان کے اس عزم کی تجدید تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اُن کا یہ کہنا کہ سیاسی یا علاقائی اختلافات بعد میں نمٹائے جا سکتے ہیں، دراصل اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کسی بھی سیاسی تقسیم سے بالاتر ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا ہے کہ پاکستان کو متحد ہو کر اپنے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔ خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں نہ صرف افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ شہداء کے اہلِ خانہ کے حوصلے اور عزم کو بھی سراہا۔ اُن کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جن کی بدولت قوم آج محفوظ اور پُرامن زندگی گزار رہی ہے۔ اس حوالے سے اُنہوں نے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا، جو کسی بھی کامیاب انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیان...

یو اے ای: دنیا کا سب سے محفوظ اور سب کے لیے خوش آمدید کہنے والا ملک

Image
ایک محفوظ اور قابل اعتماد ملک ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، جو خلیج میں رہ چکا اور مختلف ممالک کا سفر کر چکا ہے، میں حیران لیکن خوش ہوں کہ حال ہی میں یو اے ای کو دنیا کا سب سے محفوظ ملک قرار دیا گیا۔ اس کا سیفٹی انڈیکس 85.2 اور کرائم انڈیکس صرف 14.8 ہے، جو ایشیا کے محفوظ ترین ممالک جیسے جاپان (23.0) اور سنگاپور (16.8) سے بھی بہتر ہے۔ یو اے ای کی خصوصیت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی زندگی کی حفاظت ہے: خواتین آدھی رات کو اکیلے سڑکوں پر چل سکتی ہیں، بچے اکیلے سفر کر سکتے ہیں، اور پولیس فورس 24/7 دستیاب ہے، جو سب کے لیے ذہنی سکون فراہم کرتی ہے۔ نویں سال متواتر، ابوظہبی کو دنیا کا سب سے محفوظ شہر قرار دیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں حفاظت ایک طرزِ زندگی ہے۔ رواداری اور تنوع: ہم آہنگی کی مثال یو اے ای کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ یہ متنوع اور روادار ہے۔ یہاں 200 سے زائد قومیتیں امن و امان کے ساتھ رہتی ہیں، جبکہ آبادی کا تقریباً 59% جنوبی ایشیائی ہے، جس میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور فلپائنی شامل ہیں۔ ہندو مندروں جیسے BAPS مندر دبئی، سکھ گوردوارے، بدھ مت کے مراقبہ ہالز، اور مساجد سمیت 4...

ماسکو میں افغان صورتحال پر ایران و پاکستان کی سفارتی ہم آہنگی خطے میں استحکام کی نئی راہیں؟

Image
ماسکو میں ہونے والے "ماسکو فارمیٹ مشاورت اجلاس" سے قبل پاکستان اور ایران کے نمائندوں کی ملاقات نے خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات کو ایک نئی جہت دی ہے۔ پاکستانی نمائندے صادق اور ان کے ایرانی ہم منصب محمد رضا بہرامی کے درمیان ہونے والی گفتگو نہ صرف افغانستان کے حالیہ حالات پر تبادلۂ خیال کا موقع بنی بلکہ اس نے خطے میں تعاون کے نئے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے مسلسل مکالمہ اور مشترکہ لائحۂ عمل ناگزیر ہے، خاص طور پر دہشت گردی اور منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر۔ ماسکو فارمیٹ کا اجلاس ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب روس نے باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے، جس سے علاقائی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی بدلتی صورتحال میں ایران اور پاکستان دونوں کو مشترکہ سیکیورٹی، معاشی اور انسانی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان افغان مہاجرین کی واپسی، سرحدی انتظام، اور اقتصادی تعلقات پر بات چیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ کابل کے استحکام کے بغیر پورے خطے کا امن ممکن نہیں۔ ایران ن...

جی ایچ کیو حملہ کیس جیل ٹرائل کی بحالی اور انصاف کے عمل پر سوالات

Image
پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ہے، جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد احتجاج پھوٹ پڑے تھے، جن میں سرکاری و عسکری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، مقدمے کی کارروائی اب اڈیالہ جیل کے اندر ہوگی، جبکہ آئندہ سماعت کل متوقع ہے۔ اس فیصلے کے بعد جیل انتظامیہ نے سکیورٹی سخت کرنے کے لیے راولپنڈی پولیس سے اضافی نفری کی درخواست کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیاسی اور قانونی حلقے پہلے ہی عدالتی شفافیت اور انصاف کے عمل پر بحث کر رہے ہیں۔ جیل میں مقدمہ چلانے کے فیصلے کو بعض مبصرین سکیورٹی کے نقطہ نظر سے درست قرار دیتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی دلچسپی کے حامل مقدمات میں کھلی عدالت کا اصول انصاف کے تاثر کو مضبوط کرتا ہے۔ اس سے قبل، 15 ستمبر کو پنجاب حکومت نے مقدمہ منتقل کیا تھا، جس کے بعد عمران خان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا تھا، مگر اب وہی فیصلہ واپس ل...

چینی قونصل جنرل ژاؤ شی رین کا رفیع پیر میوزیم کا دورہ: پاکستان کی صدیوں پرانی پتلی تماشا روایت پر بریفنگ

Image
لاہور کے رفیع پیر میوزیم میں چینی قونصل جنرل ژاؤ شی رین کو پاکستان کی صدیوں پرانی پتلی تماشا (Puppetry) کی روایت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ کس طرح یہ قدیم فن پاکستانی ثقافت اور لوک ورثے کا ایک لازمی حصہ رہا ہے، جو مختلف خطوں میں کہانی سنانے، تعلیم دینے اور تفریح فراہم کرنے کا ذریعہ بنتا آیا ہے۔ اس بریفنگ میں مختلف ادوار کی پتلیوں، موسیقی کے استعمال، اور لوک کرداروں کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ژاؤ شی رین نے اس روایت کو جنوبی ایشیائی ثقافت کا ایک دلکش پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ فنون لطیفہ سے وابستہ ورثہ خطے کی تہذیبی گہرائیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ رفیع پیر میوزیم کے منتظمین نے بتایا کہ پتلی تماشا صرف تفریح نہیں بلکہ معاشرتی پیغام رسانی کا ایک مضبوط ذریعہ بھی رہا ہے۔ ماضی میں اس فن کے ذریعے دیہی علاقوں میں اخلاقیات، انصاف، محبت اور ہم آہنگی جیسے موضوعات پر مبنی کہانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ بریفنگ کے دوران مختلف پتلی سازوں اور فنکاروں نے اپنے تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی یہ فن اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ رکھنے کی کوششیں ...

مستقبل کی ممکنہ خانہ جنگی پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کے خطرات

Image
حالیہ دنوں میں جو بیانات اور جوابی نوٹس سامنے آئے ہیں، وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ طاقتور بیانات وقتی سیاسی اثر تو رکھتے ہیں مگر طویل المدتی نتائج غیر متوقع اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ جب عسکری کمانڈرز یا اعلیٰ سیاسی عہدیدار سخت لہجے میں بات کرتے ہیں تو اس کا فوری مطلب یہ ہوتا ہے کہ تعلقات میں اعتماد کم ہے؛ اس فقدانِ اعتماد کے دوران کسی چھوٹی سی غلط فہمی یا غیر یقینی اقدام سے صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس لمحے میں دنبالِ حل ہونا چاہیے — عسکری جارحیت کی دھمکیوں کے بجائے ٹھوس، شفاف اور قابلِ پیمائش اعتماد سازی کے اقدامات کی راہ ہموار کی جائے۔ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ ماضی کی جھڑپوں نے دونوں طرف انسانی جانوں اور معاشی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا ہے؛ موجودہ دعوے اور جوابات — چاہے وہ فضائی جھڑپوں کے بیانات ہوں یا ایک دوسرے کے طیارے گرانے کے دعوے — عوام میں خوف و بے چینی بڑھاتے ہیں اور علاقائی معیشت اور تعاون کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک معتدل رائے یہ ہے کہ فطری طور پر قومی سلامتی اہم ہے، مگر قومی سلامتی کو ایسی پالیسیوں سے مساوی رکھا جانا چاہیے جو معاشرتی استحکام، باہمی تجارت اور عوامی بھلائی کو ...

پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان زرعی تعاون: ایک نئی راہ۔

Image
پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان زرعی تعاون پر حالیہ بات چیت اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں ممالک خوراک کی سلامتی اور دیہی ترقی کو نئی ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ زرعی شعبہ ہمیشہ سے پاکستان کی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتا آیا ہے لیکن اس کی مکمل صلاحیت ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ ایتھوپیا کی کامیاب زرعی اصلاحات اور مقامی ترقیاتی ماڈل پاکستان کے لیے ایک مثبت مثال ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں تو عالمی سطح پر خوراک کی قلت جیسے بڑے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔ اس تعاون میں سب سے اہم پہلو تحقیق، لائیو اسٹاک ہیلتھ، ویٹرنری خدمات، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔ مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز سے یہ امکان بڑھتا ہے کہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات ایک مربوط طریقے سے سامنے آئیں گے۔ اس طرح کے اقدامات کسانوں کو نہ صرف بہتر پیداوار کے مواقع فراہم کریں گے بلکہ زرعی برآمدات کو بھی عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنا سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب پاکستان ایتھوپیا سے اعلیٰ معیار کی کاٹن درآمد کرنے اور اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو وسعت دینے پر غور کر رہا ہے تو یہ دونو...

این سی سی آئی اے کا عمران خان کے سوشل میڈیا استعمال پر نئی انکوائری کا آغاز

Image
اسلام آباد: قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال کے حوالے سے نئی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایجنسی کی جانب سے عمران خان کو 21 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ بھجوایا گیا ہے، جس کا مقصد ان کے سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق وضاحت حاصل کرنا ہے۔ حکام کے مطابق، سوالنامے میں بنیادی طور پر یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم کے آفیشل ایکس (X) اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے پیغامات ان کی مرضی اور علم میں تھے یا نہیں۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ این سی سی آئی اے نے پی ٹی آئی کے بانی سے اس حوالے سے سوالات کیے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک عمران خان نے مطلوبہ جوابات فراہم نہیں کیے ہیں۔ تحقیقات کا مرکز سابق وزیراعظم سے منسلک سوشل میڈیا مواد کی تیاری اور انتظامی پہلو ہوں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان کی جماعت کی آن لائن سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انکوائری نہ صرف عمران خان کی سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ ...